آغا سازی – معین نظامی

853

تحریر: جناب معین نظامی
آغا ترکی زبان کا عجیب و غریب لفظ ہے۔ اس کے بنیادی معنی عورت، بانو، بی بی، بیگم، خاتون اور محترمہ کے ہیں۔ یہ لفظ امیر تیمور کی بہت سی بیویوں کے ناموں کا جزو ہے، جیسے ہمارے یہاں ماضی قریب تک خواتین کے ناموں کے آخر میں عام طور پر بانو، بی بی، بیگم، خاتون اور مائی وغیرہ کے اعزازی لاحقے شامل ہؤا کرتے تھے اور ان کے بغیر نام ادھورے لگتے تھے۔ تاریخوں میں بہت سی دوسری خواتین کے ناموں کے آخر میں بھی آغا منسلک ملتا ہے۔

بعد میں یہ لفظ پیدائشی خواجہ سراؤں اور اشرافیہ کے گھروں میں کام کرنے والے مختلف عمروں کے ایسے مردوں کے لیے بھی استعمال ہونے لگا جنھیں زندگی کے کسی مرحلے میں احتیاطاً قوتِ مردمی سے محروم کر دیا گیا ہوتا تھا۔ ایسے لوگوں (اور جانوروں) کو آختہ اور اختہ بھی کہا جاتا ہے۔ اور تو اور خود خواجہ کا لفظ بھی، جس کے ساتھ ہمارے محبت و احترام کے جذبات بھی جڑے ہوئے ہیں، ایسا ہی ہے۔ فارسی میں اس کے کئی دوسرے معانی کے ساتھ ساتھ ایک اہم اور بے حد رائج معنی خواجہ سرا والا بھی ہے۔

آقا ایک الگ ترکی لفظ ہے جس کا مطلب ہے بڑا بھائی، مالک، صاحب، سردار، محترم، مخدوم۔ یہ احترام کے بہت سے رشتوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ ایرانی لوگ غین کو قاف اور قاف کو غین بولتے ہیں، اس لیے آقا کو ہمیشہ آغا بولیں گے اور آغا کو آقا۔ جنوبی ایشیا میں لہجے کے اس خاص مسئلے کی وجہ سے بہت گڑ بڑ ہو گئی، آقا اور آغا آپس میں یوں بغل گیر ہوئے کہ ان کی شناختیں بھی ایک دوسرے میں کھو گئیں۔ خواجہ سرا اور سردار ایسے لباس بدل بھائی بنے کہ محمود و ایاز کا تفرقہ مٹ گیا۔ ایران و توران سے برصغیر میں آئے ہوئے پرانے خانوادوں کی نئی نسلیں رفتہ رفتہ ان الٹ پلٹ لفظوں کو ہی درست سمجھنے اور اسی طرح لکھنے لگیں۔ مقامی زبان نے ان کے تصرّف کو سندِ قبول بھی دی اور اس پر مہرِ رواج بھی ثبت کی۔

ایسے میں اب صاحب، محترم، مالک، آقا اور سردار کے معنوں میں استعمال ہونے والے آغا کو اردو کا مقامی لفظ قرار دیا جائے گا جو اپنی اصل سے منقطع ہو کر جدا گانہ شناخت قائم کر چکا ہے۔

جنوبی ایشیا کے متعدد ایرانی نژاد گھرانوں کا خاندانی نام آغا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں مرد و زن آغاؤں کے نام ذہن میں آ رہے ہیں۔ ایسے بعض خانوادوں میں باپ، بھائی، استاد، مرشد اور کسی قابلِ احترام شخص کے لیے بھی آغا جان یا آغا صاحب بولا اور لکھا جاتا ہے۔ فارسی حساب سے تو اسے اصولاً آقا جان یا آقا صاحب ہونا چاہیے تھا۔ مقامی زبانوں میں البتہ یہ درست قرار پائے گا۔

جناب معین نظامی کی تحریر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں