نئی دہلی (جنگ نیوز )بھارت میں نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں نے دارالحکومت نئی دہلی سے ملحق چند مزید سڑکیں بلاک کر دی ہیں۔فورسز سے کسانوں کی جھڑپیں بھی ہوئی ہیں،یہ مظاہرہ دو ہفتوں سے جاری ہےجواب شدت پکڑتا جا رہا ہے۔ نئی دہلی کو آگرہ سے ملانے والی سڑک کو بحال رکھنے والی مرکزی سڑک کو کھلا رکھنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری متحرک ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایکسپریس وے سے چند کسانوں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ دو مقامات پر کسانوں نے ٹول بوتھ پر قبضہ کر لیا ہے اور گاڑیوں اور ٹرکوں کو بغیر فیس گزرنے دے رہے ہیں۔بھارت میں نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی احتجاجی تحریک شدت اختیار کر کے یورپ میں بھی پہنچ گئی۔ بھارتی کسان اور سکھ کمیونٹی ملک کے اندر اور باہر سراپا احتجاج ہیں اور اس ضمن میں پیرس میں بھی سکھ کمیونٹی کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ کورونا وائرس کی وبا، سماجی فاصلے اور خراب موسم کے باوجود سکھ کمیونٹی کی ایک بہت بڑی تعداد احتجاجی ریلی میں موجود تھی ریلی میں بچوں اور
خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ ریلی کے شرکا نے ایفل ٹاور سے پیرس میں بھارتی سفارت خانے تک احتجاجی مارچ کیا جبکہ ریلی میں موجود سکھ کمیونٹی کے احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ بھارت کی موجودہ حکومت سکھوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے۔ ہم بھارت میں پنجابی کسانوں کو انصاف دلوانے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ مظاہرین نے کہا کہ نئے زرعی قوانین سکھ کمیونٹی کے خلاف ہیں اور مودی حکومت کے برسر اقتدار میں آنے کے بعد بھارت میں اقلیتوں کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔









