کراچی(سید محمد عسکری) سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے سندھ کی نجی جامعات کو چارٹر دینے اور ان کے معائنے کی سفارش کرنے والے ادارے چارٹرڈانسپیکشن اینڈ ایوالیشن کمیٹی کے پہلی بار باقاعدہ قواعدو ضوابط تیار کرکے منظوری کے لیئے وزیر اعلی سندھ کو ارسال کردیئے ہیں سمریکے تحت اب کمیٹی کے سربراہ کی تقرری کے لیئے وہی شرائط ہوں گی جو کسی پبلک سیکٹر کے وائس چانسلر کے لیئے ہوں گی جس کے مطابق عمر کی حد 65 سال، 15 تحقیقی مقالے اور 10 سالہ انتظامی تجربہ ہونا لازمی ہوگا۔ اس وقت چارٹر کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالقدیر راجپوت ہیں جن کی مدت آیندہ 12 جنوری کو مکمل ہورہی ہے۔ زرائع کے مطابق سمری کی منظوری کے بعد چئیرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر عاصم حسین نے تین ناموں پر اصولی اتفاق کرلیا ہے جو موجودہ یا سابق وائس چانسلر رہے ہیں ان میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر طارق رفیع، لیاقت میڈیکل یونیورسٹی جامشورو کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر نوشاد شیخ اور ڈائو میڈیکل
یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مسعود حمید شامل ہیں۔ چارٹر انسپیکشن کمیٹی کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر عبدالقدیر راجپوت آئندہ ماہ اپنی مدت مکمل کرنے کے بعد بھی پبلک سیکٹر کے وائس چانسلر کے تلاش کے لیئے قائم تلاش کمیٹی کے کنوینئر کے طور پر کام کرتے رہیں گے کیوں کہ تلاش کمیٹی سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے بجائے محکمہ بورڈز و جامعات کے ماتحت ہے۔









