اسلام آباد (افضل بٹ ) بھارت میں برسر اقتدار انتہا پسند جماعت بی جے پی کے وزیر اعظم نریندرا مودی نے اقلیت کش پالیسی کے تحت کشمیریوں کے بعد سکھوں کو بھی ریاستی جبر کے ذریعے کچلنے کا عمل تیز کر دیا ہےاور مودی سرکار نے وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کے ذریعے دنیا بھر میں سرگرم تین سکھ رہنماؤں گرپتونت سنگھ پنوں (امریکا)، پردیپ سنگھ نجار ( کینیڈا) اور پرم جیت سنگھ (برطانیہ ) کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان کی جائیدادیں ضبط کرنے کیلئے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں بھارتی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ( این آئی اے) نے ایک ڈوزیئر کے ذریعے وزارت داخلہ پر زور دیا ہے کہ دنیا بھر میں خالصتان تحریک کو کچلنے کیلئے 13؍ مزید سکھ قائدین کو دہشت گرد قرار دیکر اور بغاوت کے مقدمات درج کرتے ہوئے ان سکھ رہنماؤں کی جائیدادیں بھی ضبط کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ بھارت نے ایک مرتبہ پھر حسب عادت سکھ تحریک کا سارا ملبہ بھی پاکستان پر ڈال دیا ہے۔ بھارتی نیشنل انویسٹی گیشن اتھارٹی نے جن مزید سکھ قائدین
پر دہشت گردی کے مقدمات درج کرنے پر زور دیا ہے ان میں سے امریکا میں مقیم 6؍ رہنماؤں میں سکھ فار جسٹس کے صدر اوتار سنگھ پنوں، ہر پریت سنگھ، امر دیپ سنگھ پوریوال، ہرجیپ سنگھ سربجیت سنگھ ایس ہمت سنگھ جبکہ برطانیہ میں مقیم 5؍ سکھوں میں گورپیت سنگھ باغی، سربجیت سنگھ بینر، کلونت سنگھ موٹھڈا، ڈوپندر جیت سنگھ اور کلونت سنگھ اور کینیڈا کے جے ایس دھالیوال اور جتندرسنگھ گریوال شامل ہیں۔









