اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) ایک سینئر عہدیدار نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ بجلی کی خریداری کے معاہدوں میں مادی تبدیلیوں کو متعارف کرانے کے لئے آئی پی پیز کے ساتھ دستخط شدہ ایم او یوز کی میعاد ختم ہونے میں 39 دن باقی رہ جانے کے ساتھ ترمیم شدہ معاہدوں پر دستخط کرنے میں اب بھی مشکل کا سامنا ہے جیسا کہ حکومت کی جانب سے ایک سال کے اندر 450 ارب روپے کے خالص واجبات ادا کرنے کی نئی پیش کش کے باوجود آئی پی پیز نے نئی پیش کش پر عمل درآمد کرنے کیلئے حکومت پر اعتماد کرنے میں یہ دلیل دیتے ہوئے ہچکچاہٹ ظاہر کی ہے کہ ماضی میں حکومت نے خود مختار ضمانتوں کا احترام نہیں کیا ۔دستخط شدہ ایم او یوز، جو اپنے معاہدوں کے باقی 10 سے 12 سال کے عرصے میں حکومت کو 836 ارب روپے کا فائدہ دیں گے، فروری 2021 میں ختم ہوجائیں گے اور ایم او یوز کی میعاد ختم ہونے کے بعد آئی پی پیز ترمیم شدہ معاہدوں پر دستخط کرنے کے پابند نہیں ہوں گی۔ لہٰذا حکومت اب بھی غیر یقینی حالت میں ہے اور چاہتی ہے کہ 53 آئی پی پیز اس کی نئی پیش کش پر متفق ہوں۔ عہدیدار کے
مطابق آئی پی پیز اپنے واجبات کی نقد ادائیگی چاہتے ہیں اور وہ ادائیگی کے طریقہ کار کے بارے میں حکومت کی نئی پیش کش پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے واجبات 450 ارب روپے ہیں اور مزید اہم بات یہ ہے کہ وہ ایم او یوز پر من و عن عمل درآمد چاہتے ہیں اور وہ حکومت کو دیر سے ادائیگی سرچارج ((ایل پی ایس) کی مد میں کوئی ریلیف نہیں دیں گے۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لئے حکومت آج (پیر) اور کل (منگل) کو آئی پی پیز کے نمائندوں سے ملاقاتیں کرے گی جس کا مقصد آئی پی پیز کے خدشات کو دور کرنا ہے جیسا کہ وہ کچھ قابل اعتماد گارنٹی کے ساتھ ادائیگی کے طریقہ کار پر عمل درآمد چاہتے ہیں۔ نئی پیش کش کے تحت حکومت اب آئی پی پیز کو13 اگست 2020 کو حکومت کے ساتھ دستخط شدہ ایم او یوز کی روح کے تحت 450 ارب روپے کی خالص رقم ادا کرے گی، ترمیم شدہ پی پی اے پر دستخط کرنے کے وقت ایک تہائی نقد اور دیگر دو اقساط پاکستان انوسٹمنٹ بانڈز (PIBs) یا ایک سال کے اندر قابل تجارت بانڈ کی شکل میں لیکن آئی پی پیز اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہیں خواہ حکومت واقعتاً اس پیش کش پر عمل درآمد کرے۔ اس سے قبل حکومت ترمیم شدہ پی پی ایز پر دستخط کے وقت کل واجبات کی ایک تہائی رقم کے ساتھ واجبات کی ادائیگی بطور پیشگی ادائیگی دو سال کے وقت میں کرنا چاہتی تھی۔ اور باقی دو قسطوں کو ہر 12 ماہ بعد ادا کرنا تھا۔ اب نئی پیش کش کے تحت 450 ارب روپے میں سے 50 ارب روپے کی رقم کو حکومت نے متنازع رقم قرار دے دیا ہے۔ محمد علی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ کچھ آئی پی پیز پاور پالیسی 2002 اور معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تقریباً 50 ارب روپے کا زائد منافع حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں اور اس مقصد کیلئے حکومت نے نیپرا کو تفویض کیا ہے کہ آئی پی پیز میں سے کچھ کے زیر انتظام ’اضافی منافع‘ کی مناسب احتیاط کی جائے۔ اور نیپرا اگر یہ کہتی ہے کہ آئی پی پیز کو زیادہ منافع نہیں ہوا، تب ان کے واجبات پورے ادا کردئیے جائیں گے۔ اس خاص مسئلے پر آئی پی پیز نے اس موقف کے ساتھ حکومتی اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے تنازع کی صورت میں حل پی پی اے کے مطابق ثالثی کے سپرد ہے، نیپرا کے نہیں۔









