جنرل باجوہ کے الوداعی دورے

260

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت 29نومبر کو مکمل ہونے جا رہی ہے۔ انہیں سابق وزیر اعظم عمران خان نے 2019ء میں تین سال کی توسیع دی تھی جس کے لئے آئین میں ترمیم بھی کی گئی تھی بعد ازاں اسے مزید جاری رکھنے کی افواہیں گردش کرتی رہیں جنہیں جنرل باجوہ نے ہر بار مسترد کیا۔ پاک فوج میں یہ روایت ہے کہ سبکدوشی کے وقت افسران اپنے زیر کمان اداروں اور اہم مقامات کے الوداعی دورے کرتے ہیں۔ جمعرات کے روز جہاں ایک طرف آئی ایس پی آر کی طرف سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے سیالکوٹ اور منگلا گیریژن کے الوداعی دوروں کی اطلاعات سامنے آئیں تو دوسری جانب اس دن نئے آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے لندن میں وزیر دفاع خواجہ آصف اور ن لیگ کی راہنما مریم نواز کے ہمراہ سابق وزیراعظم نواز شریف سےتقریباً ساڑھے تین گھنٹے صلاح مشورے کئے۔ اس مجموعی صورتحال کے تناظر میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت میں توسیع کی تمام افواہیں اور قیاس آرائیاں دم توڑ گئی ہیں جن میں یہ اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ حکومت اور آرمی چیف کے مشترکہ رفقا جنرل باجوہ کو ان کے عہدے میں توسیع دینے کے خواہشمند ہیں لیکن جنرل باجوہ پہلے ہی فیصلہ کرچکے تھےکہ وہ مزید توسیع نہیں لیں گے ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کے قریبی ذرائع نے سختی سےاس تاثر کی تردید کی ہے کہ وہ اپنی مدت ملازمت میں تسلسل کے خواہشمند ہیں۔ یاد رہے کہ اپریل 2022ءمیں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے ایک پریس کانفرنس میں یہ کہتے ہوئے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے،واضح کیا تھا کہ جنرل باجوہ نہ تو مدت ملازمت میں توسیع طلب کر رہے ہیں اور نہ ہی اس پیشکش کو قبول کریں گے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ آرمی چیف کے عہدے پر 6 سال فائز رہے۔ انہیں 2016ء میں جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت پوری ہونے پر اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے پاک فوج کا نیا سربراہ مقرر کیا تھا۔ آپریشن ضرب عضب کی کامیاب تکمیل کے بعد 2017ء میں ملک کے اندر شدت پسند تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کی سرکوبی کیلئے نیشنل ایکشن پلان کے تحت آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں آپریشن ردالفساد عمل میں لایا گیا جو کامیابی سے ہمکنار ہوا۔جنرل باجوہ نے پاک فوج کے سپہ سالار کی حیثیت سے ملکی سرحدوں ، لائن آف کنٹرول، فوجی مشقوں کی انسپکشن، قدرتی آفات میں متاثرین کی عملی امداد اور ان کے ریسکیو کیلئے خود کو ہر موقع پر موجود پایا۔ اگست 2022ء میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کے تناظر میں انہیں دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعاون کی جڑیں مضبوط بنانے میں موثر کردار ادا کرنے اور منفرد کوششوں کے اعتراف میں و سام الاتحاد اعزاز عطا کیا جو کہ برادر اور دوست ملکوں کے اعلیٰ عہدیداروں کو دیا جانے والا ملک کا دوسرا بڑا اعزاز ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے کیرئیر کا آغاز 16بلوچ رجمنٹ سے اکتوبر 1980ء میں کیا تھا۔ وہ کینیڈا اور امریکہ کے دفاعی کالج اور یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں۔ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج اور انفینٹری کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں انسٹرکٹر، فوج میں نہایت اہم سمجھی جانے والی راولپنڈی 10کور کمانڈر، جنرل ٹریننگ اور ایویلیوایشن کے انسپکٹر جنرل،انفینٹری بریگیڈ میں بطور بریگیڈ میجر اور ناردرن ایریاز میں انفینٹری ڈویژن کے کمانڈر بھی رہے۔ جنرل باجوہ نے پاک فوج کے سربراہ کے طور پر قوم اور ملکی سرحدوں کی حفاظت کےلئے جو شاندار خدمات انجام دیں انھیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں