افغان صدر اشرف غنی نے ترمیم کے ذریعے نیا قانون بنا دیا ہے جس کے بعد اب ہر افغان شہری کے شناختی کارڈ پر اس کی والدہ کا نام بھی لکھا جائے گا۔
افغانستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور رضاکاروں نے ملک میں بچوں کے شناختی کارڈ پر والدہ کا نام لکھنے کی مہم
‘ویئر از مائی نیم’ Where is my name کے نام سے چلائی تھی کیونکہ افغانستان میں سرعام خواتین کا نام استعمال کرنے کو شرم کی بات سمجھا جاتا ہے اور خواتین کو ان کے باپ، شوہر، بیٹے،بھائی کے نام کے حوالے سے مخاطب کیا جاتا ہے۔ یہی نہیں عموماً دستاویزات، شادی کے دعوت ناموں اور حتیٰ کے قبر پر بھی خواتین کے نام نہیں لکھے جاتے۔
‘ویئر از مائی نیم’ نامی اس مہم کے دوران بڑی تعداد میں عوام نے اپنی شناخت اپنی والدہ کے نام سے کرائی تھی اور یہ تحریک تین سال کے عرصے میں افغانستان سے نکل کر ایک بین الاقوامی سطح کی مہم بن گئی تھی۔
اس تحریک کی روح رواں لالے عثمانی نے شناختی کارڈ میں ترمیم پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی ہماری مستقل جدوجہد اور عوام اور مہم چلانے والوں کے درمیان ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کے عملی زندگی پر انتہائی اہم اثرات مرتب ہوں گے اور خواتین کے لیے تعلیم، صحت اور پاسپورٹ اور اپنے بچوں کے لیے دستاویزات کا حصول ممکن ہو سکے گا. یہ قانون خصوصی طور پر بیوہ، مطلقہ یا اپنے پارٹنر کے تشدد کے خلاف آواز اٹھانے والی خواتین کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
افغانستان میں شناختی کارڈ پر والدہ کا نام لکھنے کا قانون منظور
242









