استعفے یاعدم اعتماد، اپوزیشن کیخلاف حکومت کی جوابی حکمت عملی تیار

131

اسلام آباد (تجزیہ:طا ہر خلیل) پارلیمنٹ سے اپوزیشن کے استعفے یا وزیر اعظم کیخلاف عدم اعتماد ، اپوزیشن کے دونوں آپشنز پر حکومت نے جوابی حکمت عملی تیار کر لی ،قیا دت کے پا س استعفے جمع کرانے یا محض اعلان پر کوئی استعفےٰ منظور نہیں ہو گا،2014کی پارلیمانی تاریخ دہرا ئی جا ئے گی ،جب کوئی ایم این اے ایوان میں کھڑا ہو کر اپنے مستعفی ہونے کا بیان دے گا ،2014میں پی ٹی آئی کے عمران خان سمیت 33میں سے 28 ارکان قومی اسمبلی نے سپیکر کو استعفے پیش کر دیئے تھے ،مسلم لیگی سپیکر سردار ایاز صادق نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلےکو مد نظر رکھ کر پی ٹی آئی کے اجتما عی استعفے منطور نہیں کئے تھے،سپر یم کورٹ کے فیصلے میں قرار دیا گیا تھا کہ مستعفی ہونے والے رکن کوذا تی طور پر سپیکر کے سامنے پیش ہو کر انہیں کر مطمئن کرنا ہو گا کہ وہ رضا کارانہ استعفیٰ دے رہا ہے اور اس پر پارٹی یا کسی اور کا کوئی جبر یا دبا ئو نہیں ،اس وقت اسپیکر ایاز صادق نے عمران خان سمیت پی ٹی

آئی ارکان کو اپنےچیمبر میں با ری باری پیش ہونے کیلئے بلایا اورمستعفی ہونے والے ہر رکن کیلئے سپیکر نے پندرہ /پندرہ منٹ مختص کئے تھے لیکن پی ٹی آئی کے ارکان سپیکر لائونج میں بیٹھے رہے اور انہوں نے با ر ی باری پیش ہونے سے انکار کر دیا،یہ معاملہ 9/8 ماہ چلتا رہا ،سپیکر ایاز صادق نے استعفے مسترد کر دیئے اس وقت صرف جاوید ہاشمی کا استعفیٰ منظور ہوا ،جاویدہاشمی نے ایوان میں کھڑے ہو کر اپنے استعفے کا اعلان کر دیا تھا ،پی ٹی آئی کے ارکان دوبا رہ ایوان میں آگئے اور پارلیمانی بزنس کا حصہ بن گئے ، پارلیمانی ذرائع بتاتے ہیں کہ استعفوں کے معاملے پر اس مر تبہ بھی 2014 کی پی ٹی آئی کی تاریخ دہرائی جا ئے گی ،فرق یہ ہےکہ اس وقت یہ اپوزیشن میں تھی اور آج حکمران پارٹی ہے ،پارٹی کے کہنے پر اسمبلی سے استعفے کی ایک اور نظیر 2016 میں ملتی ہے جب نبیل گبول ایم کیو ایم سے منتخب ہو کر آئے تھے ، اختلاف پر ایم کیو ایم نے ان سے استعفیٰ طلب کیا ،ایم کیو ایم کے ارکان نبیل گبول کو ساتھ لے کر سپیکر ایاز صادق کے پاس پہنچے اور نبیل گبول کا استعفے پیش کر دیا کچھ دیر بعد نبیل گبول دوبارہ سپیکر کے پاس پہنچے اور کہاکہ میں نے استعفیٰ نہیں دینا ،گبول کا ستعفیٰ مسترد ہو گیا کچھ دن بعد گبول خود مستعفی گئے ،اجتما عی استعفوں کی تیسری نظیر 93-1992میں ملتی ہے جب کرا چی آپریشن کیخلاف ایم کیو ایم نے بطور احتجاج اپنے استعفے پیش کئے ،سپیکر گو ہر ایوب نے آئینی سوال اٹھا دیا تھا کہ جب تک سپیکر ذاتی طور پر مطمئن نہ ہو کہ استعفیٰ کسی دبا ئو یا جبر کا نتیجہ نہیں اوررضا کارانہ ہے کوئی استعفیٰ منظور نہیں کیا اوریہ معا ملہ ڈیڑ ھ سال اسمبلی تحلیل ہو نے تک لٹکا رہا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں