کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہاہےکہ ایم کیو ایم وزارتوں سے کبھی استعفیٰ نہیں دے گی،عوام جوتے لیے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ہفتے کو پاکستان ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہم ملک چلانے والوں سے سوال کرتے ہیں کہ کراچی والوں کو ابھی حب الوطنی کے کتنے مزید سرٹیفکیٹ دینے پڑیں گے کہ اہل کراچی کو برابر کا شہری تسلیم کریں؟وزیراعظم عمران خان دیگر یوٹرن کی طرح مردم شُماری کے معاملے پر بھی یوٹرن لیں، پاکستان کی سیاسی اشرافیہ اور صاحب اقتدار کو اس کراچی سے کس بات کا ڈر ہے کہ ملک معاشی شہ رگ ہونے کے باوجود اسکے شہری تیسرے درجے کے شہریوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، کراچی بد قسمت شہر ہے، جو اپنے وسائل کی وجہ سے عالمی حیثیت رکھتا ہے لیکن پاکستان چلانے والے اسے پاکستان کا حصہ نہیں سمجھتے، دنیا ایسے شہروں کو چن کر دارالحکومت بناتی ہے لیکن پاکستان میں الٹی گنگا بیتی ہے،
دارالحکومت کراچی سے ہٹا کر اسلام آباد کو نئے سرے سے بسایا گیا،انہوں نے کہا کہ خالد مقبول صدیقی کا نام راء ایجنٹس نے جے آئی ٹی میں لیا کہ وہ مہاجر لڑکوں کو ٹریننگ کیلئے بھارتی خفیہ ایجنسی راء کے حوالے کر کے آئے تھے، ایم کیو ایم وزارتوں سے کبھی استعفیٰ نہیں دے گی کیونکہ یہ جیسے ہی حکومت سے علیحدہ ہونگے گرفتار کر لیے جائیں گے، اس لیے انہوں نے اہلیانِ کراچی پر اپنی وزارتوں کو فوقیت دی، اٹھارہ برس بعد ہونے والی مردم شُماری کو ہر طبقے نے مسترد کردیا ہے۔ نادرا سے جاری شدہ کراچی کے مستقل پتوں کے شناختی کارڈ ڈھائی کروڑ ہیں، ووٹر لسٹوں میں عوام کی تعداد زیادہ ہے جبکہ مردم شماری میں کم ہے، ہر ذی شعور شخص یہی کہہ رہا ہے کہ یہ پاکستان دشمن اقدام ہے۔ اس پر بس نہیں چلا تو بھٹو دور میں یہاں حجرت کر کے پیسہ، تجارت، تعلیم، صحت، کاروبار، انڈسٹری کا پہیہ چلانے والے لوگوں کی تمام فیکٹریوں کو راتوں رات حکومت کے ماتحت کر کے ہتھیا لیا گیا، لوگ راتوں رات اپنی جائیدادوں سے محروم ہو گئے۔









