کراچی (ٹی وی رپورٹ)وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب خان نے کہاہےکہ بلیک آؤٹ میں انسانی غفلت کی نشاندہی ہورہی ہے،بلیک آؤٹ سے چند گھنٹے میں باہر نکل آئے۔بڑے ممالک میں بھی بلیک آؤٹ سے نکلنے میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔
ابھی ہم نے معلوم کرنا ہے کہ انسانی غفلت کیوں ہوئی ،غفلت سے متعلق ابھی تک حتمی رپورٹ نہیں آئی،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک انٹرویو میں کیا۔
عمر ایوب نے کہا کہ رات گیارہ بج کرستاون منٹ پر ایک سیکنڈ کے اندر اندر بلیک آؤٹ ہوا تھا۔ابتدائی تفتیش کے مطابق گدو پاور پلانٹ میں دو لاکھ بیس ہزاروالٹ کی لائن پر کام ہورہا تھا۔گیس ٹربائن کے ساتھ اس کے بریکرپر یہ کام ہورہا تھا۔ جس وقت ایک شفٹ مکمل ہوکرگئی دوسری آئی انرجائز انہوں نے کرنا تھا ۔
عموماً یہ ہوتا ہے کہ آپ اجازت لے کر پیچھے فون کرتے ہیں کہ ہم بجلی کو آن کرنے والے ہیں ۔ آپ گرڈ کو بتاتے ہیں پرمٹ ختم ہورہا ہے پھر وہ آن کرتے ہیں ۔اس وقت تک جو پتہ چلا ہے کہ انہوں نے نہ این ای سی سی کنٹرول سینٹر سے رابطہ کیا۔ انہوں نے جس وقت لائن انرجائز کیاتو تقریباً دو لاکھ بیس ہزار والٹ وہ فوراًارتھ ہوگئے کیونکہ لائن پر ارتھ لگی ہوئی تھی۔
ایک منٹ کے اندر اندر اس لائن پر وولٹیج بالکل صفر ہوگئی اور کیسکیڈنگ کی وجہ سے بلیک آؤٹ ہوا۔ہم نے اپنے دور حکومت میں تقریباً78 ارب روپے ٹرانسمیشن لائنز پر لگائے ہیں ۔ ابھی ہم نے معلوم کرنا ہے کہ انسانی غفلت کیوں ہوئی ۔
بلیک آؤٹ میں انسانی غفلت کی نشاندہی ہورہی ہے۔غفلت سے متعلق ابھی تک حتمی رپورٹ نہیں آئی انتظار ہے۔تحقیقات سے متعلق کمیٹی کام کررہی ہے منگل بدھ تک رپورٹ آجائے گی۔ خود فیلڈ پر موجود تھا بلیک آؤٹ سے چند گھنٹے میں باہر نکل آئے۔
بڑے ممالک میں بھی بلیک آؤٹ سے نکلنے میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔ایم او یوز سے بجلی سستی ہونے کا کوئی تعلق نہیں ہے اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ایم او یوز کے ساتھ معاہدے حتمی مراحل میں ہیں جلد آگاہ کریں گے۔ہماری capacity payments جو2013ء میں 185 ارب تھی۔ جس وقت مسلم لیگ ن کی حکومت گئی وہ2018ء میں 468 ارب روپے بن گئی ۔
وہ ادائیگی ہمارے لئے چھوڑ کر چلے گئے ۔اس کے علاوہ 2020ء میں وہی capacity paymentsیا جو سود کی ادائیگی پلانٹس پر ہے وہ تقریباً 860 ارب روپے پرچڑھ جائے گی۔2023ء میں یہ 1455 ارب روپے پر چلی جائے گی۔
دس برسوں میں یہ تقریباً646فیصد کا اضافہ ہے۔ اس کی بنیادی وجہ مسلم لیگ ن کی حکومت کی بجلی کے شعبے میں غلط منصوبہ بندی تھی جس طرح معیشت میں بھی ان کی غلط منصوبہ بندی تھی۔آئی پی پیز نے ایندھن کا جو پیسہ استعمال کیا وہ تو انہیں دینا پڑے گا۔قابل تجدید توانائی پالیسی پر ہم کام کررہے ہیں اس پر ہمارا انحصار ہے۔









