توشہ خانہ کا معاملہ مزید سنگین محسوس ہو رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی دوست فرح خان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپریل 2019ء میں تقریباً 28کروڑ کے تحائف بیچے جبکہ ایک مہینے بعد فرح گوگی نے مئی 2019 میں ٹیکس ایمنٹی اسکیم سے تقریباً 33 کروڑ روپے کا فائدہ اٹھایا۔ قبل ازیں منگل کے روز جیونیوز چینل کے پروگرام میں شاہزیب خانزادہ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے دبئی کی معروف کاروباری شخصیت عمر فاروق ظہور نے عمران خان کو سعودی ولی عہد سے ملےہوئے تحائف دکھاتے ہوئے 20لاکھ ڈالر میں ان کی خریداری کا انکشاف اس دعوے کے ساتھ کیا کہ 2019ء میں عمران خان کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے رابطہ کیا تھا جس کے بعد فرح خان (گوگی) تحفے لیکر ان کے دفتر آئیں، ان کی ڈیمانڈ 50لاکھ ڈالر تھی تاہم انہوں نے فرح خان کو کیش ادا کر کے 20لاکھ ڈالرز (یعنی 2019ء کے ڈالر ریٹس کے حساب سے ایک ارب 70کروڑ روپے) میں خرید لئے۔ عمر فاروق ظہور کے مطابق ان تحفوں کی اصل مالیت ایک کروڑ 20لاکھ ڈالرز تھی۔ تحفے کے طور پر ملی ہوئی جو گھڑی خریدی گئی وہ خصوصی طور پر بنایا گیا دنیا بھر میں واحد پیس ہے۔ دوسری جانب عمران خان کا کہنا ہے کہ توشہ خانے کی گھڑی اسلام آباد میں فروخت کی گئی تھی اور جو بھی تحائف بیچے گئے ان کی رسیدیں اور دیگر ریکارڈ توشہ خانے میں موجود ہے۔ عمران خان نے عمر فاروق کے الزامات کو فریب قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ زرداری، نواز شریف اور گیلانی توشہ خانے کی گاڑیاں لے گئے، کوئی ان کا معاملہ کیوں نہیں اٹھاتا۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین نے جیو اور شاہزیب خانزادہ کے خلاف پاکستان، دبئی اور لندن میں مقدمہ دائر کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے جبکہ اینکر شاہزیب خانزادہ کا کہنا ہے کہ عمران خان جہاں چاہیں مقدمہ کریں، اسٹوری مکمل تحقیق کے بعد دی گئی ہے۔ ادھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا ٹویٹر پر کہنا ہے کہ ادھر ادھر کی باتیں مت کرو، رسیدیں نکالو۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا پریس کانفرنس میں کہنا ہے کہ ہم قانون و قاعدے کے مطابق اس سارے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے چیلنج دیا ہے کہ عمران خان عدالت جانے کی تاریخ بتائیں۔ ادھر جیو نیوز کے پروگرام میں فرح خان کے شوہر احسن سلیم گجر کا کہنا ہے کہ عمران خان کے دور میں 33کروڑ کی کوئی ایمنسٹی نہیں لی، البتہ شاہد خاقان عباسی کے دور میں 33کروڑ روپے کی ایمنسٹی لی گئی جس کی دستاویزات موجود ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فرح خان نہ شہزاد اکبر سے کبھی ملیں نہ انہوں نے عمران خان کے گھر یا بشریٰ بی بی کے پاس کبھی مذکورہ گھڑی دیکھی۔یہاں یہ امر توجہ طلب ہے کہ توشہ خانہ اس مقام کا نام ہے جہاں غیر ملکی حکمرانوں کے دیئے ہوئے وہ تحفے رکھے جاتے ہیں جو وطن عزیز سے یگانگت کے اظہار کے لئے ملکی حکمرانوں کے ذریعے پاکستان کو دیئے جاتے ہیں۔ انہیں کرنسی اور سونے چاندی کے حساب سے دیکھنے اور برتنے کی بجائے آنکھوں سے لگانے کی ضرورت ہے اور احترام سے ان کی حفاظت و نمائش کا اہتمام کیا جانا چاہئے تا کہ اگلی نسلوں تک دوست ملکوں کی الفت کی علامتیں اور نشانیاں پہنچیں۔ حالیہ سیلاب جیسی ابتلائوں کی صورت میں ان کا نیلام کئی گنا امداد کا باعث بن سکتا ہے مگر ایسی حالت میں بھی متعلقہ ملک کو اپنی مجبوری سے آگاہ کر کے اجازت طلب کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ توشہ خانہ ہماری دوستیوں کا ہی نہیں قومی تاریخ کے اہم واقعات کا امین بھی ہے۔ اس کی حفاظت دل و جان سے کی جانی چاہئے اور اس ضمن میں تمام حفاظتی اقدامات بروئے کار لائے جانے چاہئیں۔
توشہ خانہ کا معاملہ!
381









