لندن (مرتضیٰ علی شاہ) برطانیہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، تشدد اور قتل بشمول 2018 میں نقیب اللہ محسود کی ہلاکت میں ملوث ہونے پر کراچی کے سابق پولیس افسر رائو انوار احمد خان، 64دیگر افراد اورتین تنظیموں پر سفری پابندی عائد اور ان کے اثاثے ضبط کر لئے۔ جنگ اور جیو سے گفتگو کرتے ہوئے فارن اینڈ کامن ویلتھ آفس کے ایک ترجمان نے یہ تصدیق کی ہے کہ ضلع ملیر، کراچی میں سابق سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) رائو انوار احمد خان پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ برطانوی حکومت کی جانب سے رائو انوار کا نام اس مذموم فہرست میں 190 جعلی پولیس مقابلوں میں 400 سے زائد ہلاکتوں کے شبہ میں شامل کیا گیا ہے۔ فارن آفس نے بتایا کہ سابق ایس ایس پی ملیر رائو انوارخان اور گیمبیا کے سابق صدر یحییٰ جامہ کو تاریخی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بشمول مظاہرین اور اقلیتی گروپوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں پر پابندیوں کا سامنا ہے۔ اس فہرست میں رائو انوار کو 59 ویں نمبر پر رکھا گیا
ہے۔ برطانوی حکومت نے وضاحت کی ہے کہ کراچی میں پولیس مقابلوں کے ماہر پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں، جس میں اثاثوں کی ضبطی اور برطانیہ کے سفر پر پابندی شامل ہے۔ برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ رائو انوار جعلی مقابلوں کے ذریعے ہلاکتوں بشمول پشتون ماڈل نقیب اللہ محسود کے قتل میں ملوث تھا۔ ایس ایس پی ملیر کی حیثیت سے خان ایسے متعدد پولیس مقابلوں کا ذمہ دار ہے، جن میں پولیس کے ہاتھوں عام شہریوں کو قتل کر دیا گیا۔ وہ براہ راست 190 پولیس مقابلوں میں 400 سے زائد افراد کی ہلاکتوں کا ذمہ دار ہے۔ فارن آفس نے بتایا کہ جن پر سفری پابندیاں اور اثاثے منجمد کئے گئے ہیں، ان میں 11 سیاست دان، حکام اور دیگر شامل ہیں جو کہ روس، وینزویلا، گمبیا اور پاکستان میں انسانی حقوق کی انتہائی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار تھے۔ برطانوی حکومت نے بتایا کہ وزیر خارجہ ڈومینک راب نے پابندیوں کا اعلان انسانی حقوق کے عالمی دن پر کیا تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث افراد کو متنبہ کیا جا سکے کہ برطانیہ مزید پابندیوں کے نفاذ سے نہیں ہچکچائے گا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ان پابندیوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے والوں تک ایک واضح پیغام دیا گیا ہے کہ برطانیہ ان سے ان کے اعمال کا حساب لے گا۔ برطانیہ کی جانب سے روس میں جن افراد اور اداروں پر سفری پابندیاں اور اثاثے ضبط کئے گئے ہیں، ان میں تین افراد اور ٹیرک سپیشل ریپڈ ریسپانس یونٹ شامل ہے جو چیچنیا میں ایل جی بی ٹی ارکان کے خلاف تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار ہیں۔ 2 اکتوبر 2018 کو استنبول میں سعودی قونصلیٹ پر معروف صحافی جمال خشوگی کی غیر قانونی ہلاکت پر کئی سعودی شہریوں پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔









