لندن ( مرتضیٰ علی شاہ ) ایک اہم قانونی ماہر گواہ نے لندن میں ویسٹ منسٹرز کی عدالت کو بتایا کہ ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی کو امریکا میں مقدمہ چلائے جانے کی صورت میں انصاف ملنے کی توقع نہیں ہے ۔ عارف نقوی کی امریکا حوالگی کے بارے میں مقدمے کی سماعت ہو ئی ۔قانونی ماہر کا کہنا ہے کہ پاکستانی شہری کی امریکا حوالگی کے معاملے میں بنیادی انسانی حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔تین روزہ حتمی سماعت کے پہلے دن ڈسٹرکٹ جج ایما آربتھ ناٹ کی عدالت میں قانونی گواہ وکیل مائیکل بالڈاسیر نے بتایا کہ اسیکس میں جیل کی حالت بڑی ابتر اور غیر انسانی ہے ۔یہ نسبتاَ غیر معروف جیل کی سہولت امریکا نے مین ہٹن اور بروکلین میں واقع جیلوں کے متبادل کے طور پر پیش کی ۔ اول تو پراسیکیوٹرز نے امریکا حوالگی کی صورت عارف نقوی کے لئے ضمانت کی مخالفت نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور دوسرے یہ کہ اگر امریکی عدالت نے انہیں جیل بھیجنے کا فیصلہ کیا تو فلائٹ رسک کی بنیاد پر انہیں مذکورہ دونوں جیل میں سے کہیں بھی قید
نہیں کیا جاسکتا ۔بالڈا سیر نے عدالت کو بتایا کہ عارف نقوی کی امریکا میں ضمانت نہیں ہو سکتی ہے ۔وہ امریکی شہری اور نہ ہی امریکا میں ان کی مضبوط سماجی جڑیں ہیں ۔ بالڈاسیر نے یہ بھی کہا کہ لوگ اسیکس جیل جانے سے بھی گریز کرتے ہیں ۔









