پشاور(ارشد عزیز ملک ) پشاور میں ایک شخص کے ساتھ پولیس کی بربریت اور غیر انسانی سلوک سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منظرعام پر آگئی ہے۔ پولیس نے30 سالہ شخص ردیع اللہ عرف عامرےتہکالی کو برہنہ کر کے اس پر تشدد کیا اور پھر اس کی ویڈیو بنائی جس کو پولیس اہلکاروں نے وائرل کردیا۔ خیبر پختونخوا حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیاتھا۔ پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس لال جان خٹک نے واقعے کی تحقیقات کرکے اپنی رپورٹ صوبائی حکومت کو پیش کی تھی ۔تہکال کےشرمناک واقعے پر تحریک انصاف کی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھاجوڈیشل انکوائری کمیشن نے واقعے کو مجرمانہ فعل قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ناخوشگوار واقعے کی اصل وجہ پولیس کی جانب سے قانون کے مطابق فحش ویڈیو بنانے والے ملزم کے خلاف عدم کاروائی ہے۔محکمہ پولیس اور پولیس افسروں نے واقعے کو قانون کے مطابق حل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی ۔پولیس افسروں کے خلاف غیراخلاقی گفتگو کرنے والے ملزمان کے خلاف کوئی رپورٹ درج کرانے کا ریکارڈ نہیں ملا
عامر تہکالی کیس، پولیس کی نااہلی مجرمانہ فعل کی بدترین مثال قرار
128









