اونچے پہاڑ اور زرخیز زمین رکھنےوالےضلع لوئردیر کے کاشتکاروں میں زیتون کے باغات لگانے کا رجحان بڑھنے لگا، کاشتکار جنگلی زیتون کے درخت میں پیوند لگاکر ملک کے لیے زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
ان کاشتکاروں کو دیکھتے ہوئے ضلع کے دوسرے کاشتکاروں نے بھی وسیع رقبے پر زیتوں کے باغات لگانے شروع کردئیےہیں، حکومت نے لوئردیر اور باجوڑ کو وادی زیتون قرار دیکر 500ملین روپے کے منصوبے کی منظوری دی ہے ۔
لوئر دیر میں اس وقت جنگلی زیتون کی درختوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جنہیں پیوندکاری کے ذریعے پھل دار درختوں میں بدلا جاسکتا ہے ۔
زیتون کا درخت انتہائی سخت موسمی حالات میں بھی اپناوجود برقرار رکھتا ہے اور جدید تحقیق کے مطابق اس صدا بہار درخت کی عمر تین ہزار سال تک ہوتی ہے۔
زیتون سے تیل، اچار، مربہ، قہوہ اور غذائی اشیاء تیار کی جاتی ہیں ، محکمہ زراعت نے زیتون سے تیل کی پیداوار کیلئے تیمرگرہ اور تالاش میں جدید مشینیں بھی لگائی ہیں ۔
باجوڑ اور لوئردیر کو وادی زیتون قرار دینے کے بعد مقامی زمینداروں میں زیتوں کے باغات لگانے میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔









