وفاقی وزراء نے چینی کی فی کلو قیمت میں 10 سے 12 روپے کمی اور یوٹیلیٹی اسٹوز پر 68 روپے کلو دستیابی یقینی بنانے کا دعویٰ کردیا۔
وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں ہونے والے وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر حماد اظہر اور شبلی فراز نے میڈیا کو اس حوالے سے بریفنگ دی۔
شبلی فراز نے اس موقع پر گلگت بلتستان میں آتشزدگی پر اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی کو شرپسند قرار دیا۔
حماد اظہر نے بتایا کہ چینی کی قیمت میں اضافے کے حوالے سے قانون سازی کی گئی ہے، 50 ہزار کے بجائے یومیہ جرمانہ 5 لاکھ روپے کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوا لاکھ ٹن چینی درآمد کی گئی ہے، جس کے بعد قیمت میں 10 سے 12 روپے کلو کمی آئی ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ایکس مل ریٹ اور ہول سیل ریٹ میں چینی کی قیمت میں 10 تا 12 روپے کمی واقع ہوئی ہے، آنے والے دنوں میں چینی کی قیمت مزید کم ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ درآمد شدہ چینی کے یوٹیلیٹی اسٹورز پر مکمل اسٹاک رکھے جائیں گے، وہاں پر چینی 68 روپے کلو دستیاب ہوگی۔
حماد اظہر نے یہ بھی کہا کہ جنوبی پنجاب کی شوگر ملز مکمل گنجائش کے قریب آگئی ہیں، گنے کی فروخت شروع ہو گئی ہے، پوری کوشش ہے کسان کو گنے کی پوری قیمت ملے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 10 نومبر سے گنے کی کرشنگ شروع ہو گئی ہے، تاریخ میں پہلی بار گنے کی کرشنگ وقت پر شروع ہوئی۔
وفاقی وزیر شبلی فراز نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے ریپ کے واقعات کی روک تھام پر غور کیا، اس جرم پر سزاؤں کی منظوری دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد، لاہور، پشاور،کراچی اور کوئٹہ میں آئی ٹی اکنامکس پارکس کی منظوری دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی مصنوعات کی برآمد میں پہلی سہ ماہی میں 44 فیصد اضافہ ہوا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں شرپسندی کر رہی ہے، جی بی میں گاڑیوں کو آگ لگائی گئی، جس کی مذمت کرتے ہیں،جلاؤ گھیراؤ میں ملوث افراد کے خلاف مقدمے درج ہوں گے۔
شبلی فراز نے گلگت بلتستان کے انتخابات کو شفاف اور آزادانہ قرار دیا اور نتائج پر اعتراج کرنے والوں کو قانونی فورم سے مدد لینے کا مشورہ دیا۔









