یورپین یونین نے مذہبی ذبیحہ پر پابندی کو جائز قرار دیدیا

174

یورپین یونین کی عدالت برائے انصاف نے یورپین ممبر ممالک کی جانب سے مذہبی ذبیحہ پر پابندی کو جائز قرار دے دیا۔

لکسمبرگ میں قائم یورپین عدالت انصاف نے اس فیصلے کا اظہار اپنی ایک پریس ریلیز میں کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ رکن ممالک بے ہوش کیے بغیر کیے جانے والے ذبیحہ پر پابندی عائد کر سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ جولائی 2017 میں بیلجیئم کے فلامش علاقے کی حکومت نے جانوروں کی بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے ایما پر بغیر بے ہوش کیے کھلے عام جانوروں کو قربانی یا دیگر مذہبی رسومات میں ذبح کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

جس پر مسلمانوں اور یہودیوں نے اس فیصلے کو بیلجیئم کی آئینی عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیاتھا کہ یہ پابندی ان کی مذہبی آزادیوں اور ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ بیلجیئم کی آئینی عدالت نے اس موضوع پر رائے دینے کے لیے اسے یورپین کورٹ آف جسٹس کو ریفر کر دیا تھا۔

جس پر عدالت نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ مذہبی ذبیحہ کرنے اور جانوروں کی بہبود کے درمیان ایک مناسب توازن رکھا جائے۔

یاد رہے کہ رواں سال ستمبر میں عدالت کے ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو رائے دی تھی کہ حکومتوں کی جانب سے بے ہوشی کے بغیر جانوروں کو ذبح کرنے پر پابندی مسلمانوں اور یہودیوں کے مذہبی عقائد کی خلاف ورزی ہے لیکن عدالت نے اپنے ایڈوکیٹ جنرل کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے حکومتوں کو یہ پابندی عائد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

جس پر یہودیوں اور مسلمانوں نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ فلاندرز میں لگائی جائے والی اس پابندی کے باوجود باہر سے آنے والے حلال گوشت پر پابندی عائد نہیں کی گئی ہے لیکن مسلمان اور یہودی کمیونٹی کو خطرہ ہے کہ اس فیصلے کو بنیاد بنا کر یورپین حکومتیں بے ہوشی کے بغیر مذہبی ذبیحہ پر بالکل ہی پابندی عائد کردیں گی۔

خصوصی طور پر مسلمان عید الاضحی پر قربانی کرنے سے محروم ہو جائیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں