آج سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کی چھٹی برسی ہے، اس موقع پر جہاں ہر خاص و عام کا دل افسردہ ہے وہیں پاکستان شوبز انڈسٹری سے وابستہ اداکار بھی 16دسمبر 2014 کو ہونے والے اندوہناک سانحہ کو نہیں بھول پائے ہیں۔
پاکستان شوبز انڈسٹری کی سابقہ اداکارہ نور بخاری نے اپنے انسٹاگرام کاؤنٹ پر ایک تصویر شیئر کی ہے، جس میں آرمی پبلک اسکول کا ایک ننھا طالب علم جسے اس چھ سال قبل اس سانحے میں شہید کردیا گیا تھا، اپنے ہاتھ میں موم بتی لیے کھڑا ہے، بچے نے اپنے اسکول کا یونیفارم بھی پہنا ہوا ہے۔
نور بخاری کی جانب سےانسٹاگرام پر شیئر کردہ تصویر پر لکھا ہے کہ ’ہمارا خوں بھی شامل ہے تزئین گلستان میں، ہمیں بھی یاد رکھنا چمن میں جب بہار آئے۔‘
اس کے علاوہ تصویر پر ’بلیک ڈے‘ بھی لکھا ہوا ہے۔ اپنی پوسٹ کے ساتھ کیپشن میں سابقہ اداکارہ نے لکھا کہ ’16 دسمبر ہم آپ کو نہیں بھولے۔‘
نامور گلوکارہ حدیقہ کیانی نے بھی اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے جس میں انہوں نے آرمی پبلک اسکول کے یونیفارم کی ایک تصویر شیئر کی ہے اور کیپشن میں لکھا ہے کہ ’آج کا دن ہماری قوم کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، جس دن پوری قوم روئی تھی، جس دن دنیا سے معصوم جانوں کو مٹا دیا گیا لیکن آج، آج ہم ان معصوم بچوں کی روحوں کے لیے دعا مانگتے ہیں، اُن کے اہل خانہ کے لیے دعائیں کرتے ہیں اور اُن کے لیے بھی دعا کرتے ہیں جو اس سانحے میں زندہ بچ گئے۔‘
گلوکارہ نے لکھا کہ ’ہم اپنی قوم کے امن کے لیے بھی دعا کرتے ہیں۔ اللّٰہ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور زندہ بچ جانے والے بچوں کو ہمارے ملک کے لیے باعث فخر بنائے، انہیں ہمت اور طاقت عطا کرے۔‘
حدیقہ کیانی نے مزید لکھا کہ ’اللّٰہ ہم سب کی حفاطت فرمائے اور ہمیں ہدایت دے۔‘
سابقہ اداکارہ عائشہ خان کی جانب سے بھی اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پرسانحہ اے پی ایس کے حوالے سے ایک پوسٹ شیئر کی گئی ہے، جس میں انہوں نے اسکول کے کوٹ، ٹائی اور بیگ کی تصویر کے ساتھ کیپشن میں لکھا کہ ’سب سے چھوٹا جنازہ سب سے بھاری ہوتا ہے۔‘
اداکارہ حنا الطاف نے اپنے انسٹاگرام پوسٹ کے کیپشن میں لکھا کہ ’میں کبھی نہیں بھول سکتی یہ دن، جس دن ہر مسلمان پر پاکستانی اور ہر وہ شخص جس کے سینے میں دل ہے رو رہا تھا۔‘
16 دسمبر 2014ء کے دن سفاک دہشت گردوں نے آرمی پبلک سکول میں ظلم اور بربریت کی انتہا کرتے ہوئے 141 گھروں میں صف ماتم بچھا دی تھی۔ اس دن اے پی ایس میں حصول علم میں مشغول طالبعلم آڈیٹوریم میں جمع تھے۔ بچوں کو ابتدائی طبی امداد سے متعلق بتایا جا رہا تھا لیکن کسی کو کچھ علم نہیں تھا کہ چند لمحوں بعد ہر طرف معصوم بچوں کو بے دردی سے شہید کر دیا جائیگا۔
سکول کے عقبی راستے سے سفاک قاتل داخل ہوئے اور دس بجے کے قریب ہر طرف گولیوں کی بوچھاڑ کر دی اور سکول کے اندر معصوم بچوں کو خون میں نہلا دیا۔
سکول کے در ودیوار کو خون میں رنگ دیا گیا۔ شہر تو شہر دنیا بھر میں سانحہ پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ ایک پرنسپل اور 16 سٹاف ممبرز سمیت 132 طلبہ نے جام شہادت نوش کیا۔
سانحہ آرمی پبلک اسکول کو چھ سال پورے ہونے کے بعد آج بھی بچھڑنے والوں کا غم اسی طرح تازہ ہے۔ 16 دسمبر کے سانحے میں شہید ہونے والے اپنوں سے تو ہمیشہ کے لیے منہ موڑ کر چلے گئے لیکن ان کی یادیں آج بھی پہلے دن کی طرح تازہ ہیں۔









