اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) پٹرولیم ڈویژن کے اعلیٰ آفیشل ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے دسمبر اور جنوری کے دو مہینوں میں زیادہ سے زیادہ گیس کو گھریلو شعبے کی جانب موڑنے کیلئے درآمدی گیس کی فراہمی کو RLNG پر مبنی پاور پلانٹس کو 350 ایم ایم سی ایف ڈی سے کم کرکے 240 ایم ایم سی ایف ڈی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم گیس لوڈ مینجمنٹ پلان کے تحت گیس کی دستیابی کے حوالے سے اولین ترجیح ملکی اور برآمدی شعبوں کے ساتھ رہے گی۔ تاہم جب سردی میں شدت آئے گی تو سب سے پہلے سی این جی سیکٹر کو بند کیا جائے گا اور جنوری میں کہیں بھی موسم کی انتہائی شدید صورتحال کی صورت میں ایکسپورٹ انڈسٹری کو ہفتے میں ایک بار آر ایل این جی سپلائی بند کرنے میں حکومت دیر نہیں لگائے گی۔ تاہم اپٹما کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایکسپورٹ انڈسٹری کو آر ایل این جی سپلائی بند کرنے کا سوچنا بھی نہیں چاہئے جیسا کہ ملکی برآمدات کو رفتار حاصل ہوچکی ہے جس کیلئے صنعت نے ہمارے ملک کی برآمدی مصنوعات پر بین الاقوامی اعتماد کو بحال کرنے کے لئے سخت محنت کی ہے جس نے
اس مشکل کورونا کے وقت میں نومبر میں اب تک کی سب سے زیادہ 2.15 ارب ڈالر ز کی برآمدات کو چھو لیا ہے۔ اپٹما کا کہنا ہے کہ ایکسپورٹ اورینٹڈ انڈسٹری کو بغیر کسی رکاوٹ کے آر ایل این جی سپلائی میں اعلیٰ ترجیح دی جانی چاہئے؛ کسی بھی قیمت پر برآمدات پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا حل معاشی پالیسی میں ہے جبری کمی میں نہیں جیسا کہ بجلی کی قیمت کو فوری طور پر7 اعشاریہ 5 سینٹس تک کم کیا جائے گا جو 100 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کو بچاسکتا ہے اور گھریلو صارفین کی طرف موڑا جا سکتا ہے اور اگر بجلی کی قیمت کو 3 ماہ کے لئے 6 سینٹ پر لایا جائے تو حکومت 300 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کا رخ گھریلو صارفین کی جانب موڑ سکتی ہے۔ حکومت عام صنعت کے سی پی پیز کو ضرورت کی بنیاد پر آر ایل این جی سپلائی بھی منقطع کردے گی؛ ایس ایس جی سی کے دائرہ اختیار میں 90 ایم ایم سی ایف ڈی اورایس این جی پی ایل کے قریب 65 ایم ایم سی ایف ڈی اضافی لوکل گیس کا انتظام بھی کیا جائے گا۔حکومت پوری صلاحیت کے ساتھ دو ایل این جی ٹرمینلز کو چلاتے ہوئے 1.340 بی سی ایف ڈی آر ایل این جی مدخل جنوری میں یقینی بنائے گی۔









